ایک سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں
ہم روز کہتے ہیں کہ ملک خراب ہے نظام خراب ہے نوکریاں نہیں ہیں مہنگائی بہت ہے کرپشن بہت ہے
ہم برسوں سے اسی انتظار میں بیٹھے ہیں کہ کوئی لیڈر آئے گا کوئی حکومت آئے گی کوئی معجزہ ہوگا کچھ ایسا ہو جائے گا کہ ہماری زندگی بدل جائے گی
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم خود عملی اقدامات اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہوتے
آج خود سے ایک سوال پوچھو
ہم نے پچھلے ایک سال میں خود کو بہتر بنانے کے لیے کیا کیا
ہم میں سے بہت سے لوگ تبدیلی تو چاہتے ہیں مگر خود کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتے
حالانکہ تبدیلی کا آغاز ہمیشہ خود سے ہوتا ہے
پہلے خود کو بدلنا پڑتا ہے
اپنے حصے کا کام پوری محنت اور ایمانداری سے کرنا پڑتا ہے
ہم اچھی نوکری چاہتے ہیں لیکن اچھی نوکری حاصل کرنے کے لیے جو محنت اور تیاری درکار ہے وہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے
ہم زیادہ آمدنی چاہتے ہیں مگر اپنی قابلیت بڑھانے پر وقت نہیں لگاتے
ہم عزت چاہتے ہیں مگر خود کو اس قابل بنانے کی محنت نہیں کرتے کہ لوگ ہماری صلاحیت اور کردار کی وجہ سے ہماری عزت کریں
قرآن مجید کا مفہوم ہے
انسان کے لیے وہی ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے
دوستو
آج کل ایک سوچ بہت عام ہو گئی ہے
جلدی کامیاب ہونے کی سوچ
جلدی امیر بننے کی سوچ
ہر دوسرا شخص ایسا راستہ ڈھونڈ رہا ہے جہاں محنت کم ہو اور پیسہ زیادہ مل جائے
کوئی غلط اسکیموں کے پیچھے بھاگ رہا ہے
کوئی شارٹ کٹ تلاش کر رہا ہے
کوئی قسمت بدلنے کے انتظار میں بیٹھا ہے
ایسے موقع پر علامہ اقبال کا ایک شعر یاد آتا ہے
تھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو
لیکن حقیقت یہ ہے کہ
دنیا میں کوئی بھی قوم شارٹ کٹ سے ترقی نہیں کرتی
ترقی ہمیشہ محنت علم ہنر اور نظم و ضبط سے آتی ہے
حدیث مبارک کا مفہوم ہے
حلال روزی کمانے والا اللہ تعالیٰ کا دوست ہے
اب ذرا خود کو دیکھو
روز موبائل پر کتنے گھنٹے گزرتے ہیں
اور روز خود کو بہتر بنانے پر کتنے منٹ لگتے ہیں
اگر واقعی حالات بدلنے ہیں تو سب سے پہلے ایک فیصلہ کرو
خود پر کام شروع کرو
کسی ایک ہنر پر توجہ دو
کمپیوٹر سیکھو
گرافک ڈیزائن سیکھو
ویڈیو ایڈیٹنگ سیکھو
الیکٹریشن بنو
مکینک بنو
سولر کا کام سیکھو
یا کوئی بھی ایسا ہنر سیکھو جس سے لوگوں کی ضرورت پوری ہو اور دوسروں کے فائدے کا باعث بنو
حدیث مبارک کا مفہوم ہے
تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو
اپنا کاروبار کرو اپنی مہارت بڑھاؤ نیک نیتی کے ساتھ آگے بڑھو
اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا
ڈگری خود بےکار نہیں ہوتی
تعلیم کی اپنی اہمیت ہے
لیکن اگر ڈگری کے ساتھ آپ کو اپنی فیلڈ کا عملی کام ہی نہ آتا ہو تو وہ ڈگری آپ کو وہ فائدہ نہیں دے سکتی جس کی آپ امید رکھتے ہیں
اصل کامیابی تب ہوتی ہے جب تعلیم ہنر اور عملی قابلیت تینوں ایک ساتھ ہوں
ہمارا مقصد صرف امتحان پاس کرنا یا کاغذ جمع کرنا نہیں ہونا چاہیے
ہمارا مقصد خود کو واقعی قابل بنانا ہونا چاہیے
کیونکہ لوگ کامیاب انسان کی قسمت دیکھتے ہیں
اس کی سالوں کی محنت نہیں دیکھتے
اس لیے دوسروں کا انتظار ختم کرو
کسی لیڈر کسی حکومت اور کسی معجزے کا انتظار ختم کرو
آج سے خود پر کام شروع کرو
ایک ہنر سیکھو
اپنی فیلڈ میں ماہر بنو
اپنی ذمہ داری پہچانو
کیونکہ حقیقت یہ ہے
کمزور لوگ حالات کا شکوہ کرتے ہیں قابل لوگ حالات بدل دیتے ہیں
اپنے حصے کی شمع روشن کرو
محنت اور ایمانداری سے پہلے خود کو قابل بنو تاکہ کل کسی پر بوجھ نہ بنو بلکہ دوسروں کے کام آ سکو
اور یاد رکھو
پاکستان کو ہمارے نعروں کی نہیں ہماری قابلیت کی ضرورت ہے
مجید امجد کی نظم کے کچھ الفاظ کہنا چاؤ گا آخر میں
آؤ کب تک گلہ شومی تقدیر کریں
کب تلک ماتم ناکامی تدبیر کریں
کب تلک شیوہ جور فلک پیر کریں
کب تلک شکوہ بے مہری ایام کریں
نوجوانان وطن آؤ کوئی کام کریں

0 Comments
For more information comment